اہل خانہ اور پولیس نے لی راحت کی سانس
میرٹھ16جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)بڑھانا سے بی ایس پی امیدوار محمد عارف کو پانچ دن بعد پولیس نے برآمدکرلیا۔ویسے عارف کے گھر واپس آنے کے بعد بھی پورا واقعہ اب تک معمہ بناہواہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ اقتصادی پریشانیوں کے سبب عارف خود کہیں چلے گئے تھے۔لیکن پولیس کے دباؤکے چلتے وہ خود ہی واپس لوٹ آئے۔لیکن ایسی بھی بحث ہے کہ عارف کی پیشہ ور رہائی کیلئے اہل خانہ نے اغواکاروں کودوکروڑ روپے تاوان دیئے ہیں۔سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ جے رویندرگوڑ نے بتایاکہ واقعہ کے دن یعنی کہ12جولائی کو عارف اقتصادی پریشانیوں کے سبب گھر چھوڑ کر مہرولی چلے گئے جہاں وہ دو دن رہے۔اس کے بعد وہ چندی گڑھ اور پھر پانی پت چلے گئے۔ٹی وی پر اپنے اغواکی خبر سن کر اور دوروں کیلئے پولیس کی طرف سے کی جا رہی کارروائی کے بارے میں جان کر انہیں لگا کہ پولیس انہیں پکڑلے گی اور پھر جیل جانا پڑ سکتا ہے۔لہٰذا وہ پانی پت سے دہلی میں اپنے بھائی عرفان کے گھر پہنچے اور معلومات دی۔اہل خانہ نے اس بارے میں پولیس کو اطلاع دی۔اس کے بعد کل دیر رات پولیس نے دہلی پہنچ کر عارف کوبرآمدکرلیا۔آج صبح پولس انہیں لے کر میرٹھ پہنچ گئی۔سول لائن تھانے میں عارف سے سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ نے پوچھ گچھ کی۔گذشتہ 12جولائی کو جولا رہائشی بی ایس پی امیدوار محمد عارف جولا اچانک لاپتہ ہو گئے تھے۔ان کی اسکارپیو گاڑی میرٹھ کے تھانہ ککرکھیڑا علاقے کے ڈابکا گاؤں کے پاس کھڑی ملی تھی۔گاڑی سے ایک موبائل فون اور چابی برآمدہوئی تھی۔تبھی سے پولیس ان کی تلاش کر رہی تھی۔